ضلع ہری دوار ،لنڈھورے کے ریلوے اسٹیشن پر بجانب دکھن جنگل میں واقع ہے ،اب (2016)سے تقریباََ بتیس سال پہلے اس اسٹیشن پر بڑی رونق تھی ،پورے دیہات کا گَنّا بذریعہ ٹرین لکسر میل کو جایا کرتا تھا ،نیز روڑکی لکسر رَوڑ نہ ہو نے کے سبب لوگوں کی آمد ورفت بذریعہ ٹرین ہو تی تھی اس وجہ سے ریلوے اسٹیشن پر مسلمانوں کی کثرت سے آمد ورفت ہو نے کے سبب یہاں پر پہلے ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر ہو ئی ،پھر وہ تنگ پڑ گئی تو دوسری مسجد تعمیر کی گئی اور سالہا سال تک اسٹیشن پر پُر رونق ماحول میں دونوں مسجدیں آباد رہیں ،پھر اچانک حالات نے کروٹ لی اور ایک جانب روڑکی سے لکسر سڑک کی تعمیر ہو جا نے کے سبب بسوں کی آمد وفت شروع ہو جانے کی وجہ سے مسافرین ،ریلوے کے طویل الانتظار سفر سے دل برداشتہ ہو کر بس کے ذریعہ سفر کر نے کی جا نب متوجہ ہو نے لگے ،
دوسری جا نب لکسر گنا میل میں جو گنا ٹرین کے ذریعہ پہنچایا جا تا تھا ،اب وہ ٹرک کے ذریعہ پہنچایا جا نے لگا ،نتیجہ یہ ہو اکہ لنڈھورہ کے ریلوے اسٹیشن پر عوام الناس کی آمد ورفت گھٹنے لگی اور رفتہ رفتہ نوبت بایں جا رسید کے وہ دن بھی دیکھنے کو ملا کہ یہاں پر تعمیر شدہ دومساجد جہاں کبھی اذانوں کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی تھی ایک ایک نمازی کو ترسنے لگی ،اور پھر ایسی مثالیں بھی سامنے آئیں کہ چور اُچکوں نے مسجدوں کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر نا شروع کر دیا ،ساری رونق جاتی رہی ،اسٹیشن ویرانے میں تبدیل ہو گیا اور دونوں مسجدیں غیر آباد ہوگئی اور جہاں پانچوں وقت ذکر خدا ہو تا تھا وہاں اب سنّاٹا چھا گیا ،راہزنوں نے دونوں مسجدوں کو اڈے کے طور پر استعمال کر نا شروع کر دیا ،ان حالات سے نپٹنے کے لئے علاقے کے ذمہ ساران نے غور وفکر کے بعد طے کیا کہ اگر ان دونوں مسجدوں کو بچانا ہے تو یہاں مدرسہ قائم کر نے سے بہتر کچھ اور نہیں ہو سکتا، لہٰذا ریلوے اسٹیشن کی بڑی مسجد سے متصل ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی گئی اور مسجد میں تعلیم کا کام شروع کردیا گیا ،خدا کے فضل سے اس مدرسے کی بدولت آج یہ دونوں مسجدیں آباد ہیں اور قرب وجوار، و دور دراز کے چھ سو پچاس سے زاید طلبہ طالبات بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ،جن میں سے سو سے زیادہ طلبہ کے قیام وطعام اور علاج معالجہ ودیگر ضروریات کی کفالت مدرسہ کرتا ہے ،
{ مولانا محمد تحسین }
No comments:
Post a Comment